Ticker

6/recent/ticker-posts

نعت رسول مقبول حضرت محمد صلى الله عليه واله وسلم

نعت رسول مقبول حضرت محمد صلى الله عليه واله وسلم

خوشبو ہے چار سمت درود و سلام کی
میں نعت لکھ رہا ہوں رسولِ انام کی
۔
وقتِ سحر بھی شب کو بھی لب پہ ثنائیں ہیں
عادت یہ بن گئی ہے مری صبح و شام کی
۔
اے کاش اُس نگر میں ٹھکانہ ملے مجھے
رہ جائیں یہ مسافتیں دو چار گام کی
۔
جو چاہے جا کے دیکھ لے شہرِ رسول میں
خیرات بٹ رہی ہے محمد کے نام کی
۔
پہنچوں کبھی میں گنبدِ خضرا کے سائے میں
خواہش یہ آخری ہے تمہارے غلام کی
۔
سرکار ہی کے ذکر سے ہیں لفظ معتبر
کیا حیثیت ہے ورنہ ہمارے کلام کی
۔
عرشِ عُلیٰ نے چُومے ہیں سرکار کے قدم
کتنی بُلندیاں ہیں نبی کے مقام کی
۔
ُخالق نے تیری زلف کی قٙسمیں اُٹھائی ہیں
حد ہی نہیں ہے کوئی ترے احترام کی
۔
تقلیدِ مصطفیٰ کے سبب ہی سے آفتاب
اُونچی ہوئی ہے شان صحابہ کرام کی
آفتاب عالم قریشی

نعتِ رسولِ مقبول صلى الله عليه وسلم

مصطفیٰ مجتبیٰ سرورِ دو جہاں
خاص لُطفِ خدا سرورِ دو جہاں

تیرے دستِ کرم کی بھی کیا بات ہے
ہے شِفا در شِفا سرورِ دو جہاں

تُو نے اُنگلی سے بس اِک اشارہ کیا
چاند ٹُکڑے ہُوا سرورِ دو جہاں

جانتا ہی نہیں کوئی رب کے سِوا
آپ کا مرتبہ سرورِ دو جہاں

ڈُوبے سورج کو لٙوٹا دیا آپ نے
پیڑ چلنے لگا سرورِ دو جہاں

سنگریزوں نے بھی ہے ترے حُکم پر
تیرا کلمہ پڑھا سرورِ دو جہاں

خلقتیں ہی نہیں تیرا خالق بھی تو
مدح خواں ہے تِرا سرورِ دو جہاں

روز و شب چاہیے ہر گھڑی چاہیے
ہم کو تیری عطا سرورِ دو جہاں

آفتاب اُن کا احسان ہے سر بہ سر
کر رہا ہوں ثناء سرورِ دو جہاں
آفتاب عالم قریشی


نعتِ رسول صلى الله عليه واله وسلم

شب معراج کی نعت شریف

جب محمدﷺ کی نعت ہوتی ہے
پھر یقیناً نجات ہوتی ہے

زلف سمٹے تو دن نکلتا ہے
زلف بکھرے تو رات ہوتی ہے

نعت پڑھتا ہوں جب محمدﷺ کی
ذاتِ وحدت بھی ساتھ ہوتی ہے

بات کرتا ہے پھر خدا مجھ سے
جب محمد ﷺ کی بات ہوتی ہے

اُن کی خاطر ہے کائنات بنی
اس لیے کائنات ہوتی ہے

میں مدینے کی سمت دیکھتا ہوں
آنکھ موجِ فرات ہوتی ہے

شعر کہتا ہوں آلِ احمد پر
یہ قلم کی زکات ہوتی ہے

جو گزرتی ہے ان کے روضے پر
اصل میں وہ حیات ہوتی ہے

نعت کہنا بھی ”آفتاب عالم“
قلب کی واردات ہوتی ہے
آفتاب عالم قریشی
اور پڑھیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے