Ticker

6/recent/ticker-posts

اسلام سے قبل عربوں کی حالت پر مضمون Islam Se Qabool Arab Ki Halat

اسلام سے قبل عربوں کی حالت پر مضمون | نور اسلام کے قبل عربوں کی زندگی کا مقصد

نور اسلام کے قبل عربوں کی زندگی کا مقصد ظاہری حیات تک محدود تھا۔ موت کے بعد کی زندگی اور اس کی حقیقت سے لوگ بے پرواہ تھے بلکہ نا آشنا تھے۔ خدا کی قدرت لا انتہا سے نابلد تھے۔ان کی زندگی کھانے پینے اور مباشرت کرنے سے زیادہ کچھ نہ تھی۔ خود بہائم صفت تھے اور ان کی حیات بہائم صفت تھی۔ قدرتی طاقتوں سے خوف کھاتے تھے اور زندگی پر کسی طرح کی آنچ آنے سے بچنے کے لئے بے شمار خداؤں کی پوجا کرتے تھے۔ ان کی ظاہری حیات کا مقصد بھی ان پر روشن نہ تھا۔ نظر نہ آنے والی طاقتوں میں یقین تھا اور ان طاقتوں کے نزدیک سر بندگی خم کرتے تھے۔ خدا کی وحدانیت، سلسلہ رسالت اور حق جوئی ان کے کردار سے بعید باتیں تھیں۔ البتہ دین ابراہیم اور دین حنیف کا چرچہ تھا۔ حضرت ابراہیم کی یاد گار خانہ کعبہ کی زیارت اور زائرین کی خدمت ان کا اہم فریضہ تھا۔ لیکن وہ خانہ کعبہ کی حقیقت سے بھی آشنا نہ تھے اور نتیجتاً خانہ خدابت کدہ بن گیا تھا۔ کچھ لوگ ایسے بھی تھے جو دین ابراہیم کی زیادہ واقفیت رکھتے تھے۔ وہ قربانی کی رسم پر قائم تھے اور بت پرستی سے بچتے تھے۔ صرف خانہ کعبہ کی زیارت اور زائرین کی خدمت ان کا کام تھا۔ ان میں بنی ہاشم کے افراد ممتاز تھے۔

اسلام سے پہلے دنیا کے حالات

اسلام سے قبل عربوں میں ظاہری طور پر بھی جاہلیت عام تھی۔ وہ لوگ پڑھنا لکھنا بے کار سمجھتے تھے۔ ان کا خاص پیشہ تجارت تھا۔ کچھ لوگ کھجور کی کھیتی بھی کرتے تھے مگر سماج کا نظام معاش تجارت پر ہی قائم تھا۔ مویشی پالنا جن میں بکری، بھیٹر، اونٹ اور گھوڑے خاص مویشی تھے۔ ان جانوروں کی بھی تجارت ہوتی تھی۔ بردہ فروشی کا بھی رواج تھا۔ شاذ و نادر کچھ لوگ پڑھنا لکھنا جانتے تھے اور شعر و شاعری، عشق و عاشقی میں اپناوقت صرف کرتے تھے۔

زمانہ جاہلیت سے کیا مراد ہے

اسلام سے قبل عرب کے لوگ آزاد خو تھے۔ وہ کسی کی ماتحتی پر کسی طرح رضامند نہ تھے۔ اس لئے ان کے یہاں سلطنت نہ تھی اور نہ وہ کسی کی بادشاہت قبول کرنے کو تیار تھے۔ ہر قبیلہ کا ایک سردار ہوتا تھا۔ اس کی سر داری میں سماجی نظام قرار پاتا تھا۔ بیرونی حملہ سے بچنے اور اپنی حفاظت کے لئے ایران کے بادشاہ سے معاہد ہ تھا۔

زمانہ جاہلیت کے واقعات

اسلام سے قبل عرب کا ہر آدمی اپنی جگہ خود حاکم اور سپاہی تھا۔ ہاتھی خانہ جنگی اسی آزادانہ خوئی کا نتیجہ تھی۔ بات بات پر آپس میں لڑائی ہو جاتی تھی اور وہ لڑائی انتقامی جذبہ کے تحت نسل در نسل چلتی رہتی تھی۔ اس لئے زور و قوت اور فنون حرب و ضرب ان کی بنیادی طاقت تھی۔ دور دراز کے شہروں اور ملکوں سے تجارت، قافلوں اور قبیلوں کی نگہبانی اور حفاظت اور سلامتی کے لئے بھی سپاہیانہ اوصاف اور عسکری قوت در کار تھی۔ اس لئے قوم عرب کا ہر فرد اپنی جگہ پر بہادر سپاہی اور سپہ سالار ہوتا تھا۔ اس کی جنگی صلاحیت بڑی زبردست تھی۔

زمانہ جاہلیت کی رسومات

عربوں کی ان خوبیوں میں ان کا احساس برتری انتہائے کمال پر تھا۔ اسی وجہ سے باہم جنگ ہوتی رہتی تھی۔ وہ اپنی جنگ برداشت نہیں کرتے تھے۔ یہ احساس، بر تری خصوصی طور پر بنو ہاشم اور بنوامیہ سے زیادہ ظاہر ہوتا رہا۔ نور اسلام کے بعد کی جنگوں میں بھی یہی احساس کار فرما تھا۔ ایسی جنگوں میں بنوامیہ سب سے آگے رہتے تھے۔ اسلام کے پہلے کی لڑائیوں میں بھی اور اسلام کے بعد کی لڑائیوں میں بھی یہ احساس کار فرمارہا۔ کر بلا معلے کی جنگ بھی اسی احساس برتری، خاندانی عظمت اور بدر واحد کے انتظام کی بنیاد پر ہوئی ہے۔ انعام کی لالچ دینا اور دنیاوی چمک دمک کے عوض لوگوں کو اپنی طرف ملا لینا امیہ خاندان والوں کا بہت پرانا اور مجرب حربہ تھا جس کا استعمال وہ مخالفت اسلام سے لے کر کر بلا تک کرتے تھے۔

اسلام کا ظہور

اسلام سے قبل عربوں کا مقصد حیات فقط زندگی کے ظاہری عیش و آرام پر مبنی تھا۔ اس لئے ان میں عریانی و عیاشی، عیش و فحاشی، شراب و عورت، عشق و شہوت انتہائی درجہ پر پہنچ چکی تھی۔اس ضمن میں عکاظ کا میلہ نہایت اہم ہے۔ جہاں عیاشی و فحاشی کا بازار گرم ہوتا تھا جس میں عورتوں کا ننگا ناچ ہوتا تھا، عور تیں بکتی تھیں۔

دور جاہلیت کی برائیاں

اسلام سے قبل عربوں کے معاشرت میں عورتوں کا کوئی مقام نہ تھا۔ وہ صرف دل بستگی کا سامان تھی اس لئے با و قار لوگ لڑکی کو زندہ دفن کر دیتے تھے اور غلام کو لڑ کی پالنے پر مجبور کرتے تھے۔ عور تیں باہر سے بھی لا کر بیچی جاتی تھیں۔ ان تمام خرابیوں میں ان کی مہمان نوازی اور زبان دانی قابل قدر بات تھی۔ شاعری کا ملکہ عروج پر تھا۔ فصاحت اور بلاغت کا کمال تمام دنیا میں مشہور تھا۔ عرب اپنے مقابلے میں ساری دنیا کو عجم یعنی گونگا کہتے تھے۔

مذہب اسلام کو عربوں کی قدیم سیرت سے جنگی صلاحیت، مہمان نوازی اور زبان دانی سے فائدہ ہوا اور بقیہ تمام حالتوں کو اسلام نے بدل دیا۔


ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے