Ticker

6/recent/ticker-posts

حضرت علی کی شہادت اردو شاعری اہل بیت کی شان میں اشعار حضرت علی کی شان میں منقبت

منقبت حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ | قصیدہ حضرت علی | عشق علی شاعری

منقبت حضرت علی اردو، اہل بیت کی شان میں اشعار، منقبت حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ، عشق علی شاعری، قصیدہ حضرت علی شہید کربلا حضرت علی کی شہادت پر شعر

منقبت حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ | قصیدہ حضرت علی | عشق علی شاعری

لب ِ فلک سے اترتی نشانیوں میں علیؑ
ہمیں ملا ہے مقدس کہانیوں میں علیؑ
۔
لعاب ڈال کے اپنا ملا رہا ہے مٹھاس
شراب خانۂ کوثر کے پانیوں میں علیؑ
۔
وہ زیرِ خاک کبھی منتشر نہیں ہو گا
ہے جس بدن کے لہو کی روانیوں میں علیؑ
۔
حجر شجر ہوں بشر ہوں کہ پھر نجوم و قمر
زمینیوں میں علیؑ آسمانیوں میں علیؑ
۔
ضعیف سوچ کی آنکھوں میں ڈال کر آنکھیں
رجز سناتی ہوئی سب جوانیوں میں علیؑ
۔
پل ِ صراط پہ تقسیم کر رہا ہے نجات
غمِ حسینؑ کی مجلس کے بانیوں میں علیؑ
۔
حراء سے خم تک سنا کائنات نے عباس
مرے رسولؐ کی معجز بیانیوں میں علیؑ
حیدر عباس


اشعار در مدح حضرت علیؓ | عشق علی شاعری | حضرت علی

معمورہء عرب سے عجم کے دیار تک
کوئی پہنچ سکا نہ علیؑ کے وقار تک
۔
اولادِ فاطمہؑ سے توسل کیے بغیر
کوئی پہنچ نہ پائے گا پروردگار تک
۔
کیا موسموں کے قافلے بے اذن ہیں رواں ؟
تابع ہیں سب علیؑ کے خزاں سے بہار تک
۔
آدمؑ سے کہہ رہا ہے خدا پنجتنؑ ہیں یہ
رکھتے ہیں یہ رسائی مرے اختیار تک
۔
لاسیف و لافتی کا تقدس لیے ہوئے
آتی ہے داد عرش سے دلدل سوار تک
۔
محفل میں۔ذکرِ آل۔محمدؐ کے فیض سے
گردن مری پہنچ گئی پھولوں کے ہار تک
۔
یہ سرفرازیاں تو مقدر کی بات ہے
میثمؓ علیؑ کے عشق میں آیا ہے دار تک
۔
عباس مانگتا ہوں دعائیں نماز میں
پا لوں رسائی راہِ نجف کے غبار تک
حیدر عباس


ہمارا نام علیؑ ہے ولاء کے لہجے میں منقبت در شان علی علی کی شان میں شاعری

ہمارا نام علیؑ ہے ولاء کے لہجے میں
کلام ہم نے کیا ہے خدا کے لہجے میں
۔
پہن کے آیتیں لب پر ہیں بولتی زہراؑء
حسنؑ, حسینؑ, علیؑ, مصطفیٰؐ کے لہجے میں
۔
ضمیرِ کن کی بلاغت ہے موجزن اس میں
عجب کمال ہے خیرالنساؑء کے لہجے میں
۔
مدد کو آئے گا ام البنینؑ کا بیٹا
علم کے پاس پکارو وفا کے لہجے میں
۔
ہے میرے سامنے جب بھی یزیدیت آئے
میں ہم کلام ہوا کربلا کے لہجے میں
۔
سخی حسینؑ نے باب۔قبول کھول دیا
بھری ہوئ تھی اداسی دعا کے لہجے میں
۔
ابو ترابؑ کو مولا بتا رہے ہیں نبیؐ
خمارِ سورۂ یسیں ملا کے لہجے میں
۔
بٹا ہوا کئ ٹکڑوں میں اجتہاد میں ملا
تھی ضربِ تیغِ علیؑ مجتبیٰؑ کے لہجے میں
۔
زمانہ پوچھ رہا تھا کہ بر سر۔دربار
یہ کون بول رہا ہے خدا کے لہجے میں
۔
صف ِ عزا پہ میں پڑھتا ہوں مرثیہ عباس
غمِ حسینؑ کے دریا بہا کے لہجے میں
حیدر عباس


حیدر علی کی شان میں شاعری منقبت

لشکرِ احمدؐ۔مختار میں حیدرؑ حیدرؑ
ہم نے دیکھا ہے ہر اک وار میں حیدرؑ حیدرؑ
۔
گھر سے نکلو تو ضروری ہے کہ کندہ رکھو
پیچ۔جامہ , خم۔دستار میں حیدرؑ حیدرؑ
۔
سارے اصحاب دم ِ فتح سنا کرتے تھے
صوت ِ جبریلِ طرح دار میں حیدرؑ حیدرؑ
۔
قلبِ صفین میں عباسؑ جو اترے اک بار
پھر تو گونجا صف ِ اغیار میں حیدرؑ حیدرؑ
۔
صحنِ فردوس میں بکھری ہوئ خوشبو کی قسم
جلوہ گاہِ گل و گلزار میں حیدرؑ حیدرؑ
۔
تم زباں کاٹ بھی دو گے تو سنائ دے گا
لہجہء میثمؓ ِ تمار میں حیدرؑ حیدرؑ
۔
رقص کرتا ہے ملنگوں کی زبانوں پہ سدا
لعلؓ و تبریزؓ کے دربار میں حیدرؑ حیدرؑ
۔
بھاگ جاتے ہیں اب و جد کی طرح سنتے ہی
میرے دشمن مری للکار میں حیدرؑ حیدرؑ
۔
اپنے پندار کو عباس جواں رکھے گا
صاحبؑ العصر کی سرکار میں حیدرؑ حیدرؑ
حیدر عباس


شان علی شاعری شاعری حضرت علی کی شان میں شاعری شاعری منقبت

گھلا رہے گا مہذب یقین لفظوں میں
علیؑ کا ذکر کرو بہترین لفظوں میں
۔
مری نجات کے سارے چراغ روشن ہیں
ثنائے بنتِ نبیؐ کے امین لفظوں میں
۔
مرے نبیؐ کی ہر اک بات بن گئ قرآں
عجیب معجزے دیکھے مکین, لفظوں میں
۔
کبھی خطاب مزمل کبھی لقب یسین
خدا نے نعت کہی ہے حسین لفظوں میں
۔
خدا نے بھیجنا چاہا جو پنجتنؑ پہ سلام
فلک سے آیتیں اتریں متین لفظوں میں
۔
تمام شعر کیے ہیں سپردِ مدحِ علیؑ
کنول تراش رہی ہے "زمین" لفظوں میں
۔
رموزِ "آیہء بلغ" عطا کیے ہم کو
خطیب۔منبر۔خم نے ذہین لفظوں میں
۔
سناں کی نوک پہ میرے حسینؑ نے عباس
بیاں کیا ہے محمدؐ کا دین لفظوں میں
حیدر عباس


خزاں کے بعد چمن میں بہار آئے گی
مجھے یقیں ہے شبِ انتظار آئے گی

کبھی نہ ملنے کا مجھ سے معاہدہ کرنے
وہ ایک بار نہیں بار بار آئے گی

وہ جانتی ہے تلاطم سے کھیلنے کا ہنر
مجھے یقیں ہے وہ دریا کے پار آئے گی

میں تیری دست درازی کا معتقد ہوں ہوا !
مرے چراغ پہ کرنے تو وار آئے گی

ابھی تو آنکھ میں پھیلی ہے مختصر سی نمی
ابھی تو گال پہ کاجل کی دھار آئے گی

بہا رہا ہوں عریضے کہ رحمتوں کی نوید
صبا کی دوش پہ ہو کر سوار آئے گی

سفید ہو گئ آنکھیں تو زندگی میری
لہو کے دشت میں اک شب گزار آئے گی

علیؑ کے در پہ مسلسل جھکے رہو عباس
یہیں سے بخشش۔پروردگار آئے گی

حیدر عباس

Hazrat Ali Ki Shan Mein Shayari In Urdu

ہنر ملا ہے کچھ ایسا مجھے مدینے سے
پہاڑ توڑتا رہتا ہوں آبگینے سے

علیؑ کے نام سے روشن ہے کائناتِ خدا
شعاعِ نور نکلتی ہے اس نگینے سے

نہ کوئی ضعف ہے دل میں نہ دھڑکنیں ہیں مریض
میں ماتمی کو لگاتا ہوں اپنے سینے سے

میں جبرئیلؑ ہوں میرا وجود خلق ہوا
علیؑ ولی کے مقدس تریں پسینے سے

خمارِ جذبۂ میثمؓ لہو میں دوڑتا ہے
ولایتوں کی مبارک شراب پینے سے

علیؑ کے ذکر سے بھر جائے نامہء اعمال
ہر ایک سانس گزارو کچھ اس قرینے سے

اسی لیے تو یہ سر سال بھر نہیں جھکتا
جڑا ہوا ہوں میں شعبان کے مہینے سے

غمِ حسینؑ کی دولت حریمِ دل کا غرور
چراغ آنکھ کو حاصل ہے اس خزینے سے

مرے حسینؑ مجھے خوف راہ زن کا نہیں
کہ منسلک ہے مسافت ترے سفینے سے

میں اہلبیتؑ کی لکھتا ہوں منقبت عباس
میں اس مقام پہ پہنچا ولاء کے زینے سے

حیدر عباس

shahadat-e-hazrat-ali-ki-shan-mein-urdu-shayari-shahadat-hazrat-ali-manqabat-muharram-karbala-tajiya-shayari-durood-o-salam-in-urdu

علیؑ خیر البشر ہیں

فضائل کس قدر ہیں
علیؑ خیر البشر ہیں

جہاں پائے علیؑ ہے
وہاں سجدوں میں سر ہیں

حسنؑ ۔! سارے ملائک
تری دہلیز پر ہیں

کمر پر رخت باندھے
عبث محوِ سفر ہیں

حبش پر ہے حکومت
عجب دریوزہ گر ہیں

رخِ عباسؑ دیکھو
علیؑ بار ِ دگر ہیں

قسم چودہ عدد کی
بہتر معتبر ہیں

سبھی زہراؑء کے دشمن
فنا کے دوش پر ہیں

پڑھی ناد ِ علیؑ ہے
حوادث بے خبر ہیں

کرم عباس پر ہے
مناقب عمر بھر ہیں

حیدر عباس

مجھے علیؑ کے قصیدے کی دھن بنانی تھی
گلا نجف سے تو مشہد سے ساز لے آیا

تیرہ رجب کی شان میں میں منقبت

رجب کی تیرہ عجیب منظر خدا کا ہے گھر میں کیا بتاؤں
ہوا ہے دیوار میں نیا در علی ہیں اندر میں کیا بتاؤں

یہ کیسی خوشبو کہاں سے آئے ہو اک ملک نے ملک سے پوچھا
زمیں پہ جشنِ علی کی تھی ہر فضا معطر میں کیا بتاؤں

ہے ذہن ناقص زباں ہے قاصر علی کی مدحت بیاں ہو کیسے
وہ نور پیکر وہ روحِ قرآں وہ علم کا در میں کیا بتاؤں

رسول ہاتوں پہ لیکے مولا علی کو اپنے چچا سے بولے
پڑھی ہیں چاروں کتابیں حیدر نے کیسے فرفر میں کیا بتاؤں

صلاحیت ہی کہاں ہے ذہنوں میں شانِ مولا علی کو سمجھیں
خدا کی مرضی خریدی حیدر نے نفس دےکر میں کیا بتاؤں

علی کا دشمن بتا رہا ہے یہ ذولفقارِ علی کے تیور
چلی عدو پر تو تن سے کٹکر ہوا میں تھے سر میں کیا بتاؤں

زباں پہ بخًّ کی تھی صدائیں دلوں میں بغضِ علی کے شعلے
غدیر خم میں چلے ہیں سینوں پہ کتنے خنجر میں کیا بتاؤں

سنا ہے عشقِ علی میں نوکِ سنا پہ چڑھکر بھی بولتے ہیں
زباں کٹاکر کیا ہے میثم نے ذکرِ حیدر میں کیا بتاؤں

قصیدہ شایان پڑھ رہا تھا فرشتے خوش ہوکے سن رہے تھے
علی کے نعروں سے بن گیا تھا جناں کا منظر میں کیا بتاؤں
شایان عباس علی پوری

منقبت در شان حضرت علی کرم اللہ وجہہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔
صبر کی انتہا ہے سجدے میں
خون ناحق بہا ہے سجدے میں

حملہ آور ہوا کوئی ملعون
اور علی مرتضیٰ ہے سجدے میں

مسجد کوفہ بن گئی مقتل
فخر خیرالوریٰ ہے سجدے میں

بزدلی دیکھ ابن ملجم کی
میرا شیر خدا ہے سجدے میں

قدسیوں نے کہا گواہی میں
اوج صبر و رضا ہے سجدے میں

آفتاب کمال ہستی اج
روبروئے خدا ہے سجدے میں

شیر یزداں تری شہادت پر
ہر عدو نے کہا ہے سجدے میں

مرتضیٰ اشعر


منقبتِ مولائے کائنات حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم

کہوں کیسے کہ ہے کیا کیا علی کا

کہوں کیسے کہ ہے کیا کیا علی کا
جسے دیکھو ہے وہ شیدا علی کا

سمجھ لینا حلالی ہی نہیں وہ
جِسے بھائے نہیں چرچا علی کا

اِسے کہتے ہیں یارو! جانثاری
ہے بستر شاہ کا، سونا علی کا

درِ خیبر اٹھا کر پھینک دینا
یہ کِس کا کام ہے؟ تنہا علی کا

مبارک ہوں تمہیں دنیا کے رشتے
ہمیں کام آئے گا رشتہ علی کا

ہمارے خوں میں آ جاتی ہے گرمی
کہیں جب نام ہے آتا علی کا

سمجھ لوں گا زمانہ مِل گیا ہے
اگر میں دیکھ لوں روضہ علی کا

علی کی آل کے دامن میں آؤ
ہے سینہ علم کا دریا علی کا

اکیلے ہی ہزاروں پر ہے بھاری
یہ بیٹا کس کا ہے؟ مولا علی کا

تمہارے جلنے سے کچھ بھی نہ ہوگا
بڑھایا رب نے ہے رتبہ علی کا

لگی باطل کے دِل میں آگ توصیفؔ
قصیدہ تو نے جو لِکھّا علی کا
از۔ توصیف رضا رضوی
9594346926

وہ مولا علی مولا علی مولا علی ہیں : منقبت

کلام۔ توصیف رضا رضوی
ہر سمت کس کے نام کی یہ دھومیں مچی ہیں
ہر دل پہ کس کی شان میں تحریریں لکھی ہیں
دیں کے لیے کس نے بڑی قربانیاں دی ہیں
وہ مولا علی مولا علی مولا علی ہیں

دنیا جنہیں کہتی ہے شہِ دیں کا عَلَم دار
دامادِ نبی شیرِ خدا حیدرِ کرار
جو سارے زمانے کے ولیوں کے ولی ہیں
وہ مولا علی مولا علی مولا علی ہیں

 جو بات ہے اُن میں، نہیں وہ بات کِسی میں
وہ آنکھ بھی کھولے ہیں تو آغوشِ نبی میں
جو فاتحِ خیبر ہیں جو محبوبِ نبی ہیں
وہ مولا علی مولا علی مولا علی ہیں

اِک ہاتھ سے دروازۂ خیبر کو اکھاڑا
کیسا بھی بہادر ہو اسے پَل میں پچھاڑا
رستے میں جِن کے آنکھیں زمانے کی بچھی ہیں
وہ مولا علی مولا علی مولا علی ہیں

سرکار کے مکتب کے وہ شاگرد ہیں اول
بِن اُن کی محبت کے نہ ایماں ہے مکمل
وہ جن کی خوشی میں خوش اللہ کے نبی ہیں
وہ مولا علی مولا علی مولا علی ہیں

جنت ہے بس اس کی جو وفادار ہے اُن کا
وہ جائے گا دوزخ میں جو غدار ہے اُن کا
"مَن کُنتُ" جِن کے واسطے فرماتے نبی ہیں
وہ مولا علی مولا علی مولا علی ہیں

آقا نے کہا جِن کی زیارت کو عبادت
وہ جِن کی کیا کرتے تھے جبریل حفاظت
کاندھے پہ اٹھائے جنہیں کعبے میں نبی ہیں
وہ مولا علی مولا علی مولا علی ہیں

صِدّیق جنہیں کَرتے دِل و جاں سے محبت
جِن کے لیے فاروق کے دِل میں بھی ہے عزت
توصیفؔ میں جن کی مِرے عثمانِ غنی ہیں
وہ مولا علی مولا علی مولا علی ہیں
 
از۔ توصیف رضا رضوی

یاعلی علی یاعلی علی یاعلی علی یاعلی علی Ya Ali Lyrics In Urdu

"یا علی علی علی"
کلام⁦ :
توصیف رضا رضوی باتھ اصلی

یاعلی علی یاعلی...
اللّٰہ کا، نبی کا، شیر علی، جو ہُوا کبھی نہیں زیر، علی
دیکھو ہے کیسا دلیر علی دشمن کو کرے جو ڈھیر، علی
----

یاعلی علی یاعلی...
-----
ہم سب کا آقا علی علی ہم سب کا مولا علی علی
ہم سب کا مسیحا علی علی دکھیوں کا سہارا علی علی
امداد ہوئی اس کی پل میں جس نے بھی پکارا علی علی
دروازۂ شہرِ علم ہے وہ ہر قول میں سَچّا علی علی
سرکار نے جس کو پالا ہے وہ قسمت والا علی علی
سب سے پہلے ہے پڑھا کلمہ وہ مومن پہلا علی علی

یاعلی علی یاعلی...
---

ہر ذرہ ذرہ علی علی ہر قطرہ قطرہ علی علی
ہر پردہ پردہ علی علی ہر جلوہ جلوہ علی علی
مومن کی زباں پر رہتا ہے ہر لمحہ لمحہ علی علی
پیدا ہوتے ہی دیکھے جو سرکار کا چہرہ، علی علی
مومن وہ ہو ہی نہیں سکتا، نہ ہو جس کا وظیفہ علی علی
جنت میں وہی جائے گا جسے کر دیں گے اشارہ علی علی
-----

یاعلی علی یاعلی...

--------
اللّٰه کا پیارا علی علی، آقا کا دلارا علی علی
ہر دِل کا سہارا علی علی، ہر آنکھ کا تارہ علی علی
آسان ہوئی اُس کی مشکل جِس نے بھی پکارا علی علی
حسنین کا بابا علی علی دکھیوں کا مسیحا علی علی
کرتا ہے محبت جس سے خود اللّٰه تعالیٰ، علی علی
آقا نے یہ خُم میں فرمایا میں جس کا ہوں مولا اُس کا علی
-----

یاعلی علی یاعلی...
-----
ہر ایک کی چاہت علی علی ہر اِک کی محبت علی علی
ہے شاہِ ولایت علی علی دریائے سخاوت علی علی
ہر وقت زباں پَر جِس کی ہے قرآں کی تلاوت، علی علی
آقا نے کہا ہے جِس کی زیارت بھی ہے عبادت علی علی
ساری دنیا نے جسے مانا ایسی ہے طاقت علی علی
اِکٌِس(٢١) رمضاں کو مسجد میں پائے جو شہادت علی علی
----

یاعلی علی یاعلی...
-------
پتجھڑ میں بہار ہے علی علی ہر دل کا قرار ہے علی علی
جَگ کا سردار ہے علی علی آقا کا یار ہے علی علی
اِس نام سے ہمت بڑھتی ہے ہر دل کا پیار ہے علی علی
باطل جس سے تھَرّائے وہ حق کی تلوار ہے علی علی
باطل سے ٹکرانے کو جو ہر دم تیار ہے، علی علی
کیوں ذکر ہو کوئی اِس کے سِوا اپنا سنسار ہے علی علی
-----

یاعلی علی یاعلی...
-------
زھرا کا شوہر علی علی دامادِ پیمبر علی علی
ہر ایک سے بہتر علی علی ہر ایک سے بڑھ کر علی علی
باطل کے آگے جھکایا نہیں جِس نے اپنا سر، علی علی
نازاں ہے جِس پر دینِ نبی وہ فاتحِ خیبر علی علی
ہے سب سے نرالی شانِ اسد غالب ہے سب پر علی علی
مرتے دم تک اللّٰه رہے توصیفؔ کے لب پر علی علی
-------
یاعلی علی یاعلی علی یاعلی علی یاعلی علی
-------

از۔ توصیف رضا رضوی باتھ اصلی سیتا مڑھی بہار انڈیا
مقیم ممبئی
اور پڑھیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے