Ticker

6/recent/ticker-posts

جب اندھیرا ہوتاہے : اردو افسانہ - مسرور تمنا Jab Andhera Hota Hai : Urdu Story

جب اندھیرا ہوتاہے : اردو افسانہ - مسرور تمنا

جب اندھیرا ہوتاہے
مسرورتمنا
شالو نے دھلے کپڑے سکھاۓ اور آنگن یں پڑے سنترے اور مٹر کے چھلکے کی طرف دیکھا
ابھی کچھ دیر پہلے ہی اس نے آنگن صاف کیا تھا پھر وہ بے من سے صفای میں لگ گئی
کچن میں ای ہی تھی کے بھابھی کی سہلیاں آ گئیں
چاے کے ساتھ ناشتہ بھی تیار کر کے وہ دے گئی
سنو رضیہ نے کہا ڈنر میں تھوڑاأہتمام کرلینا
جی بھابھی
وہ کچن میں چلی ای واحد کو گۓ ابھی چھ ماہ ہی ہوے تھے اس نے باہر کی طرف دیکھا اور جلدی جلدی کھانا بنانے لگی
اسکا بھی اپنا ایک پیارا سا گھرتھا وہ تھی واحد تھے اور پیارا راج دلارا شازی تھا چار سال کا گول مٹول بیٹا مگر اسکی خوشیاں تباہ ہو گئی واحد کی موت نے اسے جھنجھوڑ کر رکھ دیا ساس سسر نے اسے اپنانے سے انکار کردیا اور اسکا بیٹا چھین لیا وہ روتی ہوی ماں کے پاس واپس اگٸ مگر ماں تو بہت بیمار تھی زیادہ دن زندہ نہ رہ سکی بھابھی نے جینا مشکل کردیا بھای نے سمجھایا کے مفت کی ملازمہ ہے تھوڑا نرمی سے کام لو مگر اسکا ظلم بڑھتا گیا وہ رات گۓ تک شالو سے کام لیتی چھوٹی چھوٹی باتوں کو لے کر اسکا جینا حرام کرتی

شالو بھابھی نے چاۓ کی پیالی لیتے ہوے کہا میری امی ارہی ہیں تمہیں انکی خدمت کرنی ہوگی اور ہاں اپنا بستر تم کچن کے کونے میں لگا لینا
شالو چپ چاپ کچن میں آ گئی

واحد تو خود ہی ناشتہ بناتے تھے وہ لنچ باکس تیار کرتی اور کام والی گھر اور برتن کی صفای مگر واحد کے جاتے ہی شالو کی زندگی بد رنگ ہو گئی

اور آنکھوں میں ہر وقت انسو رہنے لگے
اسکی اہوں میں اضافہ ہوتا رہتا جب اندھیرا ہوتا ہے ساری دنیا سوتی ہے ایسے میں شالو کی نیند کھل جاتی اور وہ اپنی بھابھی کے بند کمرے کو تکنے لگتی جہاں سے ہسنے گن گنانے کی آواز اسکے دل کو چیرتی ہوی چلی جاتی

بھابھی کی ماں چل پھر نہیں سکتی تھیں شالو انکی دل وجان سے خدمت کر رہی تھی اپنی ماں سمجھ کر اور اس ماں نے ہی کہا رضیہ شالو کو کچن میں نہیں کمرے میں سونا چاھۓ میرے ساتھ ۔۔۔۔اللہ سلامت رکھے بڑی پیاری بچی ہے اماں پیاری نہیں منحوس ہے جبھی تو ساس نے اولاد چھین کر گھر سے نکال دیا

بیٹی رضیہ کبھی تو یہ تجھ سے بھی خوش نصیب تھی اور یہ تو مقدر اجڑ گیا شالو برستی آنکھوں سے اما ں کی طرف دیکھ رہی تھی جب اندھیرا ہوتا ہے تو اسکے اندر بھی گہری تاریکی ہوتی ہے کبھی تو لاکھ تارے جگمگاتے تھے 
مگر اب اندھیرا اور بھی گہرا

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے