Ticker

6/recent/ticker-posts

نعت شریف اردو : سبھی باطل نظاموں سے مجھے گہری عداوت ہے

نعت شریف اردو : سبھی باطل نظاموں سے مجھے گہری عداوت ہے

محترم قمروارثی ( کراچی) کی زیرِ صدارت دائرہ ادب نیو یارک کے ستائیسویں حمدیہ اور نعتیہ سیمینار مشاعرہ 8 جنوری 2022 میں پڑھی گئی نعت ۔۔۔۔۔۔

نعت شریف اردو


سبھی باطل نظاموں سے مجھے گہری عداوت ہے
نبی کے ہر عمل ہی سے مجھے دل سے محبت ہے

نبی کی ذات اقدس سے اٹھا پاٸیں نہ جو نفع
سبھی ایسے مسلمانوں سے مجھکو تو شکایت ہے

نبی کی ہی اطاعت میں خدا کی ہے رضا مندی
یہی میرا عقیدہ ہےیہی میری عبادت ہے

حسیں صورت حسیں سیرت نفاست بھی متانت بھی
محمد کی سرشتِ پاک میں از حد حلاوت ہے

شریعت پر جو چلتا ہے بصد فخرِ مسلمانی
اسی کی دو جہانوں میں سعادت ہے بشارت ہے

محمد مصطفیٰ پہ جان بھی قربان ہے منظر
یہی ہے میرا سرمایہ یہی میری سعادت ہے
منظر انصاری

نعت رسول پاک

معطر بدن تھا معطر پسینہ
معطر ہی باتیں معطر قرینہ

ترو تازہ یعنی کہ نورانی چہرہ
جہاں کی فضا میں معطرنگینہ

تہی دست آتے تھے جو ان کے در پر
وہ حکمت کا بھرتے معطر خزینہ

اطاعت نبی کی اگر ہو جہاں میں
نہ ڈوبے کبھی زندگی کا سفینہ

تھے قول اور فعل آپ کے سب سے اعلیٰ
تھے حکمت کا منبع ، منور تھا سینہ

تھے سرکارِ عالم مبرّا اے منظر
نہ بغض و حسد نے عناد اور کینہ
منظرانصاری

نعت رسول مقبول صلی االلہ علیہ وسلم

نعت
ہمارے دلوں کی خوشی ہے محمد
مہکتے چمن کی ہنسی ہے محمد

ازل تا ابد ذکر جاری ہے تیرا
ہر اِک بزم دل کی سجی ہے محمد

ترے ہی تصدق ترے ہی میں قرباں
تری ہی غلامی جمی ہے محمد

ہے تیری اطاعت نجاتِ جہنم
مری ہی وفا میں کمی ہے محمد

ترا ہی لقب رحمتِ عالمیں ہے
کہ رحمت بہ ہر سو پڑی ہے محمد

مدینہ میں منظر نے رکھا قدم کیا
گھٹا رحمتوں کی اٹھی ہے محمد
منظرانصاری

نعت پاک اردو میں

نعت
مِدحتِ حضرتِ احمدِ مصطفیٰ
خود بیاں کررہا ہے مرا وہ خدا

ماحی ہے تو کہیں صاحبِ دوجہاں
رنگ ہیں رحمتِ عالمیں کے جدا

چن لیا آپ کو مجتبیٰ ، مصطفیٰ
فہم سے ما ورا مرتبہ آپ کا

چاند کی روشنی ماند سی پڑ گٸی
جب کبھی ہوگیا آمنا سامنا

کون ہے جو کرے حق ادا آپ کا
مِل کے پڑھتے رہو سب ہی صلَِ علیٰ

فصلِ گل بچھ آپ کے آنے سے
گوشہ گوشہ مہک سا اٹھا ہر جگہ

طالبِ شوق گرہے تجھے بالیقیں
حوضِ کوثر مقدر بنے گا ترا

ان کا چہرہ تصَور میں ہے جلوہ گر
نعت لکھتا ہے یوں منظرِ بے نوا
منظرانصاری

نبی سے محبت درود و سلام : نعت شریف اردو

نعت
مری تو عقیدت درود و سلام
نبی سے محبت درود و سلام

خدا خود بھی پڑھتا نظر آیا ہے
مرے رب کی رحمت درود و سلام

خدا کے فرشتے بھی مصروف ہیں
پڑھیں وہ بہ چاہت درود و سلام

پڑھو مومنو سب ہے حکمِ خدا
ہو جلوت یا خلوت درود و سلام

کھلا رحمتوں کا پڑھا جس نے بھی
حسیں بابِ رحمت درود و سلام

ہے دل کی صفاٸی ، نہ ہو گر نفاق
زباں کی حلاوت درود و سلام

سقاوت ،عداوت ،جہالت ہے کیا
کرے دور وحشت درود و سلام

ہے منظر مداواٸے رنج و الم
دلوں کی سکینت درود و سلام
منظرانصاری

ہم زبان ( ادبی گروپ) جدہ کے زیرٍ اہتمام عالمی ختمٍ نبوت مشاعرہ (7.اگست 2021) ہوا جس میں دنیا کے 12 ممالک کے شعراء کرام نے حصہ لیا ۔ اس مشاعرہ میں ختمٍ نبوت کے عنوان پر منظر انصاری کی نظم امامت ہے ختم اور شہادت ہے ختم

نعت : رسالت ہے ختم اور نبوت ہے ختم

وہ جِبرِیل جو تھے امیں، باوفا
جو پیغام لاتے تھے صبح و مسا
وحی کا جو تھا سلسلہ اک چلا
کہ بعد اس کے یعنی شریعت ہے ختم
رسالت ہے ختم اور نبوت ہے ختم

ہیں تسلیم کرتے بہ ایماں سبھی
محمد ہمارے نبیﷺ آخری
نہیں بعد اس کے کوئی بھی نبی
کہ بعد اس کے یعنی قیادت ہے ختم
رسالت ہے ختم اور نبوت ہے ختم


ہے قرآن ترتیب سے سب پڑھا
اسی سے سبھی کو سبق ہے دیا
جسے کہتے ہیں نسخہء کیمیا
وہ لذت کہاں وہ حلاوت ہے ختم
رسالت ہے ختم اور نبوت ہے ختم

صحابہ نے محسوس کی چار سو
وہ پھیلی ہوئی جابجا، کوبکو
پسینے سے جس کے وہ آتی تھی بو
وہ خوشبو ہے ختم اور تراوت ہے ختم
رسالت ہے ختم اور نبوت ہے ختم

منظر انصاری

نعت شریف : نظم معرّیٰ

۔۔۔نظم معرّیٰ ۔۔۔
احمد محمد محمود حامد
تعریف رب نے کتنی حسیں کی
فضل و کمالِ حسنِ محمد
شانِ کریمی تیری عطا ہے
پھیلی ہدایت کی روشی جو
میرا نبی تو شمس الضحیٰ ہے
مہ تاب کی جو روشن کرن ہے
میرا نبی تو بدرالدجیٰ ہے
اجمل تھا چہرا اکمل خصالت
حسن و وفا اور جود و سخاوت
معراج پر جب پہنچے محمد
پہنچے وہاں نہ ہمت کسی کی
ان کا پسینہ مہکی سی خوشبو
خوشبو بھی اعلیٰ کب ہے مقابل
دل جاگتا تھا جو نیند میں بھی
کیسی فضیلت میرے نبی کی
صادق امیں اورحسنِ تکلم
خوبی بھی ایسی کافر بھی مانے
فطرت تھی نادر عادت عجب تھی
بدلہ نہ لیتے ذاتی کسی سے
سلطانِ مکہ شاہِ مدینہ
نبیوں کے خاتم سب سے مقدس
اعلیٰ وارفع ، اکمل ، مکمل
دیکھا نہیں ہے ایسا نظارہ
دِل میں نبی کی کتنی محبت
دل سے زیادہ ، جاں سے بڑھ کر
منظرانصاری

kaaba-mecca

نعت شریف اردو

مرض کی مرے تو دوا ہے محمد
ثنا آپ کی ہی شفا ہے محمد

جو سنت پہ چلتا رہے گا ہمیشہ
زمانہ تو اس پہ فدا ہے محمد

جو چھوڑے گا میرے نبی کا طریقہ
خفا اس سے رب اور خفا ہے محمد

جو ختمِ نبوت کا منکر ہوا ہے
وہ دنیا ودیں سے گیا ہے محمد

بسی جس کے دل میں نبی کی محبت
جہاں کے غموں سے رہا ہے محمد

درودو سلام آپ پر ہے جو پڑھتا
خدا کی قسم با وفا ہے محمد

شناسا دلوں کا شناسا ہے منظر
یہ دل آپ کا جو ہوا ہے محمد
منظرانصاری

نعت رسول مقبول

اطاعت میں تیری عجب سی ہے لذّت
خوشی کی ہے ضامن تری یہ محبت

تری ہی رضا میں خدا کی رضا ہے
خدا کی رضا میں مچلتی ہے راحت

دعا ہے ،دوا ہے ترا ہی وسیلہ
گھٹا ہے گھنی تو ، توہی ابرِ رحمت

ستاروں کے جھرمٹ میں مہتاب جو ہے
یہ ہے میری حسرت، ہو اس کی زیارت

اسی سے دلوں میں دیا اِک جلا ہے
اسی سے ہوئی دور دنیا میں ظلمت

مقدّس جماعت نبی کے صحابہؓ
نبی کی مرے ہے جو واضح ہدایت

یہی فخر کافی ہے ہم کو اے منظر
ہمارا نبی وہ ، ہم اس کی ہیں امّت
منظرانصاری

بزمِ علم وادب ”ہم زبان “ جدّہ کے زیرِ اہتمام عالمی سیرت مشاعرہ جس میں دنیا کے 12 ممالک سے زیادہ 40 شعرا کرام نے حصّہ لیا رکن فعولن پر لکھی گئی آزاد نظم

نعت

شمائل نبی کے
بیاں میں کروں کس طرح
وہ چہرہ کھلا ہی کھلا تھا
تو عارض بھرے ہی بھرے تھے۔
وہ روئے منور حسیں آپ کا
وہ جمالِ الٰہی کا اک آئینہ تھا
بہت خوش گماں تھے
وجیہہ الزّماں تھے
پسینہ ڈھلکتا تھاچہرے سے جس دم
نظر آتے موتی چمکتے ہوٸے سے
وہ کستوری عنبر سے بڑھ کر
پسینے کی خوشبو
سپید و حسیں رنگ گورا
مقدس بدن
جوکہ چاندی سے ڈھل کر بنا تھا
وہ دیبا حریری سے بڑھ کر
بدن نرم و نازک
حسیں چہرہ پر وہ سفیدی و سرخی چمکتی
کشادہ تھا دل
اور کشادہ جبیں تھی
میانہ تھا قد اور
وہ سینہ کشادہ
تھی مہرِ نبوّت دو کندھو کے مابین
امیں اور تھے صادق
صداقت کے تھے ترجماں

امیں تھے جو ختمِ نبوّ ت کے اعلیٰ
ولید و مغیرہ و دیگر
کہ تھا مشرکوں کا قبیلہ
کہا مشرکوں نے نبی سے
نبوت کا دکھا معجزہ تو
کہا چاند کے ٹکڑے دو کرکے ہم کو دکھا دے
صداقت ہمیں بھی دکھا دے
وہ شب چودھویں تھی
بڑی تاب سے وہ چمکتا تھا چندا
وہ پہلے نبی نے دعا کی خدا سے
اشارہ کیا پھر وہ انگلی سے اپنی
اسی لمحہ دو ٹکڑے دیکھا گیا چاند یارو
اسی طرح سے تو ہوٸی تھی نبوت کی تصدیق ان کافروں میں
کہا پھر نبی آخری مصطفیٰ مجتبیٰ نے
کہ شاہد تو رہنا
ابو سلمہ ارقم
بصد جان و دل سے نبوت کے صدقے
میں منظر نبی کی صداقت کے صدقے
منظرانصاری

اور پڑھیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے