Ticker

6/recent/ticker-posts

گرمی پر شاعری | موسمِ گرما کی شاعری | گرمیوں کے موسم پر شاعری

گرمی پر اشعار | کڑی دھوپ پر اشعار | جون کی گرمیوں پر شاعری | موسم گرما پر اشعار | گرمی کی شام شاعری


گرمیوں کا موسم ہے
دور میرا ہمدم ہے

جل رہا ہے دل میرا
اور جدائی کا غم ہے

رو رہا ہے دل میرا
اور آنکھیں بھی نم ہے

چل رہی ہے گرم ہوا
اور سانس مدھم ہے

آ بھی جا تو اے دلبر
وقت بہت ہی کم ہے
***

جوانی کی گرمی ہے، دل میں ہے پیاس
سجن تیرے آنے کی مجھ کو ہے آس

نہیں کٹ رہی مجھ سے تنہا یہ رات
گاڑی پکڑ کر آ جاؤ پاس
***

گرمی سے گوری کی حالت خراب
جوانی ہوئی ہے نشیلی شراب

انگور سا پھولا پھولا بدن
سنبھلتی نہیں ہے سنبھالے شباب
***

Garmi Par Shayari In Urdu

پیار کرنے والوں پر گرمی بھی قہر برساتی ہے
تم پاس بیٹھے ہو لیکن چپک کر سو نہیں سکتا
***

گرمی میں پیاسے لوگ پانی کی تلاش کرتے ہیں
اور جو جوان ہیں وہ جوانی کی تلاش کرتے ہیں
***

پسینے میں بھیگ بھیگ کر رات کٹتی ہے
صنم تیری چھاتی جو میرے سینے سے سٹتی ہے
***

پسینہ پر پسینہ بہہ رہا ہے
جو گرمی کا مہینہ آگیا ہے
جوانی گرم ہے اتنی صنم کی
جواں میں ہوں، پسینہ کہہ رہا ہے
***

اتنی گرمی ہے کہ سورج بھی دہائی مانگے
جس کی محبوبہ نہیں وہ کس سے ملائی مانگی
***

قہر برسا رہا گرمیوں کا دن
دل نہیں لگ رہا تمہارے بن
***

جوانی کی گرمی ہے نیند نہیں آئے گی
بستر پر آ جانا تیری یاد آئے گی
***

کڑی دھوپ پر اشعار | سایہ پر اشعار

بہت یاد آ رہی ہے تیری گھنی زلفیں
اس گرم دھوپ میں کوئی سایہ نہیں ملتا
***

گرمی کا دن آیا ہے
لو کا موسم لایا ہے

رکھنا اپنا خیال ذرا
سب کو اس نے ستایا ہے
***

Garmi Ki Shayari In Urdu

آیا گرمی کا موسم
سورج نے ڈھایا ہے ستم

بہنے لگا پسینہ ہے
پل پل پانی پیتے ہم
***

دھوپ پر شاعری

دھوپ نے بادل سے کہا، بڑی گرمی ہے ذرا پانی برسا دو
بادل نے دھوپ سے کہا رب کی مرضی ہے
***

سورج دادا دیا کرو
گرمی آئی سایہ کرو

بادل بھائی رحم کرو
پانی کو برسایا کرو
***

رات کٹتی ہے جیسے تیسے
کیسے دن اب گزرے گا
جلتا سورج اب لگتا ہے
جیسے زمیں پہ اترے گا
***

Poetry On Summer Season In Urdu


garmi-shayari-garmi-par-shayari-in-urdu-garmi-ki-shayari-in-urdu-poetry-on-summer-season-in-urdu-garmi-ke-mausam-shayari-urdu


پگھلتے جا رہے ہیں جسم سارے
یہ گرمی جان لے لے گی ہماری
***

ٹھنڈا پانی سب ڈھونڈے
ٹھنڈا پانی کون کرے

سورج نے دھایا ہے قہر
گرمی سے ہے لوگ مرے
***

گرمی جو آئی تو بجلی کی کھپت بڑھ گئی
گرمی میں غریبوں کی جیب کی کھپت گئی
***

موسم کر رہا ہے لوگوں کے ساتھ بے شرمی
بے بس پڑے ہیں دھرتی پر لوگ آئی ہے گرمی
***

کنواں تالاب اور ندیاں سوکھی
سوکھے بورڈنگ چاپا کل اور نل

گرمی سے ہوا جینا مشکل
بے چین رہنے لگے لوگ آج کل 


اور پڑھیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے